Skip to main content

Shairi Or Ansoo

لفظ بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اور لفظ کی حرمت کا پاس رکھنا بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہیں یہ لفظ اور اس سے جڑی داستان کو قاری تک پہچانے کے لیے  شاعر کو اپنی ذات پر بڑے کرب سہنے پڑتے ہیں کیونکہ تخلیق کا عمل بہرحال انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے اور پھیلتا ہوا ساری کائنات پر محیط ہوجاتا ہے



شاعری ایک طلسم کدہ ہے جس میں اگر انسان پھنس جاۓ تو پھر ساری زندگی رہائی کے لیے تڑپتا  رہتا ہے، جیسے ہمارے اطراف میں بکھرے ہوۓ موسم ہیں اسی طرح  شاعری میں بھی مختلف موسم ہوتے ہیں 

خود اپنے ہی اندر سے ابھرتا ہے وہ موسم 
جو رنگ بچھا دیتا ہے تتلی کے پروں پر 


کچھ باتیں ایسی ہوتی ہے، جنہیں صرف محسوس کیا جاتا ہے جب کوئی احساس جذبہ یا خیال کے تار کو چھو جاۓ تو اظہار کا حق بھی مانگتا ہے - پھر یہی اظہار شاعری کا روپ اپنا لیتا ہے - خوشی ہو یا غم میرے نزدیک اظہار کے دو خوبصورت ذریہ شاعری اور آنسوں ہیں -جہاں الفاظ اور زبان پر دسترس ہو، وہا شاعری ساتھ دیتی ہے اور جہاں الفاظ ساتھ دیتے دیتے تھک جاۓ وہاں آنسوں کام آتے ہیں- کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے 

ان ہی لفظوں کے اشک بنتے ہیں 
جو زباں سے ادا نہیں ہوتے 


اور جب اندر کی خاموشی سے دل تھکنے لگے اور گھٹن کو باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو تو شاعری ہی واحد ذریہ ہے جو سکون دیتا ہے اور الفاظ کو کاغذ ،قلم کے حوالے کرکے دل جیسے پرسکون ہوجاتا ہے

شکریہ  یہ تحریر محمّد یاسر زاہد حسین کی طرف سے ہے 

Comments