Skip to main content

Kund Malir Beautiful Place in Karachi Pakistan

خوبصورت پہاڑ جو دیکھے تو حیران رہ جاۓ اور ایک ایسی جگہ جو خوبصورت پہاڑوں اور دلکش  مناظر سے بهرپور ایک پرسکون ساحلی پٹی یہاں میں ہاکس بے یا کسی پوائنٹ کی بات نہیں کرہا بلکہ بلوچستان کے اندر موجود کند ملیر نامی جگہ کی  بات کرہا ہوں کند ملیر جانے کا اتفاق کچھ اسطرح سے ہوا کہ ہمارا لاسٹ سمسٹر تھا اور کلاس کے سر لال چند کتھری جن کے ساتھ مل کر یہ پورا پلان ڈیزائن ہوا اور جو لوگ جانے کو منع کررہے تھے




 وہ بھی ایک ایک کر کے ہمارے قافلے میں شامل ہوتے گئے -تقریبآ رات کے ٤ بجے ہم لوگ روانہ ہوۓ راستے میں ایک ریسٹورانٹ پر ناشتہ کیا اسوقت فجر کا ٹائم تھا اور ہم لوگ بلوچستان میں انٹر ہوچکے تھے فجر کے ٹائم پہاڑوں کے پیچھے سے جو سورج نکلنے کا جومنظر تھا بہت ہی خوبصورت تھا لہٰذا ریسٹورانٹ سے بس روانہ ہوئی پھر ہم پہونچے پرنس اوف ہوپ کے مجسمے پر اور پھر اسے آگے محمد بن قاسم کی سپاہیوں کی قبریں بھی دیکھی اس پورے سفر میں اپنے دوستوں کے ساتھ بہت تفریح کی بس کا ڈرائیور جب سست پڑنے لگتا تو ہم اسے نعرہ لگا کر حوصلہ دیتے وہ نعرہ یہ تھا 'مرد مومن مرد حق 'چاچا گاڑی کھینچ کے رکھ 'یہ تو ایک تفری تھی -






 پھر ہم پوھنچے mud volcano اس بڑی سی جگہ کو دیکھنا تو آسان تھا مگر اس پر چلنا بہت ہی مشکل مگر ہم پھر بھی چڑھ گاۓ مگر نیچے اترنے کیلیے  بڑا جگرہ چاہیے کیوکہ جب آپ اپر سے نیچے کی جانب دیکھتے ہوں تو لوگ آپکوں بہت چھوٹے نظر آتے ہیں اور  زمین اپنی جانب بہت تیزی سے کھنچتی ہے مگر ایک بات ہے اسے آپکوں اپنے فٹنس کا اندازہ ہوتا ہے مڈوولکانو سے ہوتے ہوے ہم ہنگلاج گئے اور پھر کند ملیر ساحل پر گئے خاص طور پر کند ملیر کا نائٹ stay بہت ہی خوبصورت ہے - یہ کند ملیر کی پوری ٹرپ لانگ ڈرائیو کے شوقین لوگوں کے لیے ہے 





شکریہ 

محمّد یاسر زاہد 

https://www.facebook.com/PhrloZara

//////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////


A beautiful mountain that will amaze you and a place that is a quiet coastal strip full of beautiful mountains and beautiful scenery. I am not talking about any point here but I am talking about a place called Kund Malir inside Balochistan Coincidentally, it was our last semester and the head of the class, Lal Chand Kathri, with whom the whole plan was designed, and who were forbidding to go..


Kund Malir Beautifull Sea Side



They also joined our caravan one by one - we had breakfast at a restaurant on the way at around 9 pm. It was Fajr time and we had entered Balochistan at the time of Fajr from behind the mountains. The view of the rising sun was very beautiful, so the bus left the restaurant, then we arrived at the statue of Prince of Hope and then in front of it we also saw the graves of Muhammad bin Qasim's soldiers. When the driver started to slow down, we would encourage him with a slogan.


Mudvolcano Balochistan Pakistan

Princess Of Hope




Then we reached the mud volcano. It was easy to see this big place, but it was very difficult to walk on it, but we will still climb, but to get down, you need a big jagra, because when you look from top to bottom, people look at you very small. They come and the earth pulls towards them very fast but one thing is for sure you have an idea of ​​your fitness. We went to Hanglaj via Midvolcano and then went to Kund Malir beach especially the night stay of Kund Malir is very beautiful. This entire trip to Kund Malir is for those who are interested in a long drive

by Muhammad Yasir Zahid

https://www.facebook.com/PhrloZara


Comments

Popular posts from this blog

Umer Khayam

عمر خیام کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جن میں تھوڑا تضاد ملتا ہے اگر آپ گوگل  کرے تو کچھ اسطرح کی تحریر سامنے آتی ہے  عمر خیام ایک فارسی کے ریاضی دان ، ماہر فلکیات ، فلسفی ، اور شاعر تھے۔ وہ شمال مشرقی ایران کے شہر نشابور میں پیدا ہوا تھا ، اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس عرصے میں کارخانیڈ اور سلجوق حکمرانوں کے دربار کے قریب گزارا جس میں پہلی صلیبی جنگ کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اور کچھ معلومات اس طرح کی ملتی ہے  عمر خیام کا اصل نام غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم خیام تھا۔ ان کے نام کے ساتھ خیام کا لقب لگنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے والد ابراہیم پیشے کے لحاظ سے خیمہ دوز تھے لیکن عمر خیام نے تمام عمر میں ایک دن بھی خیمہ دوزی نہیں کی بلکہ محض کسرنفسی اور اپنے والد کی شہرت عام کی بنا پر انہوں نے خیام تخلص اختیار کیا۔ عمر خیام کس سن میں پیدا ہوۓ اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن تحقیقات سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ  عمرخیام چوتھی صدی ہجری کے عشرے اوّل (10ھ  بمطابق 1019ء) میں نیشا پور (ایران) میں پیدا ہوے لیکن بیشتر مغربی مورخین ع...

Google Task Mate

Google گوگل کی جانب سے ایک نئی ایپ ”'ٹاسک میٹ“ متعارف کرائی جارہی ہے جس سے لوگ عام کام جیسے دکانوں کی سامنے سے  تصاویر کھینچ کر یا مختصر ویڈیو کلپس کے ذریعے پیسے کماسکیں گے۔ اس وقت یہ ایپ صرف بھارت میں صارفین کے لیے لائیو ہے اور اس کا حصہ بننے کے لیے انوی ٹیشن کوڈ درکار ہوگاء جس کے بعد ہی ٹاسکس پر کام ہوسکے گا۔ اس سے قبل ایک ایپ گوگل اوپینین ریورڈرز بھی پیش کی گئی تھی جس میں گوگل کی مصنوعات یا ایسے مقامات کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے جہاں وہ جاچکے ہوں جس کے عوض پلے اسٹور کریڈٹ فراہم کیا جاتا۔  مگر اس نئی ایپ میں کریڈٹ کی بجائے اصل رقم ادا کی جائے گی۔ ””ٹاسک میٹ“ میں ٹاسکس کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہےء ایک بیٹھ کر کرنے والے کام جیسے جملے ریکارڈ کرنا اور چلتے پھرتے کیے جانے والے کام جیسے تصاویر لینا۔ اس کے عوض صارفین کو مقامی کرنسی میں ادائیگی کی جائے گی۔ یہ تو واضح نہیں کہ گوگل ان ٹاسکس کو کن مقاصد کے لیے استعمال کرے گاء مگر گوگل کی جانب سے اس ڈیٹا کو سرچ؛ لہجے کے آہنگ اور امیج شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بار ٹاسک مکمل کرنے پر صارف کو اسے ایک تھرڈ پارٹی...

Princess Of Hope

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے    ساحل لسبیلہ و مکران کے کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر اور اورماڑہ کے  درمیان واقع ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ بلوچستان صوبہ کا ایک قدرتی اور عجوبہ کہے جانے کا مستحق ہے۔ کنڈ ملیر سے شروع ہونے والے پہاڑی سلسلے؛ جسے بُذی لک کہا جاتا ہے کے درمیان میں ایک کٹا پھٹا پہاڑ ہے جسے صدیوں کے آندھی, طوفان اور بارشوں کے بہائو نے ایسی شکل دے دی تھی ۔  2002 میں ہولی وڈ کی اداکارہ انجلینا جولی نے دیکھ کر اسے پرنسیس آف ہوپ یعنی ”'امید کی شہزادی'ٴ اس کا نام رکھا اور اس عجوبہ نےپوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی۔ یہ جس خطے میں واقع ہے یہاں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ محمد بن قاسم کی فتح سے پہلے اس خطے کو ارما بیل کہا جاتا تھا۔ سکندراعظم کی فوج کا ایک حصہ 325 قبل مسیح میں ایران کو واپس جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔  اس کے عقب میں دریائے ہنگول کے کنارے ہندوؤں کا قدیم ترین مندر ہے جونانی ہنگلاج یا بنگلاج ماتا کے نام سے موسوم ہے۔ اس مندر میں قدیم دور میں بحری و بری راستے سے یہاں اپنی عبادت کے لئے رجوع ہوتے تھے اور آج بھی یہ...