Skip to main content

East India Company

East India Company 

East India Company ایسٹ انڈیا کمپنی سترہویں اور اٹھارہویں صدی کے دوران مغربی یورپ میں تشکیل پانے والے متعدد تجارتی اداروں میں سے ایک تھی۔ کم و بیش حکومتی معاونت رکھنے والی کمپنیاں واسکوڈے گاما کے تاریخ ساز بحری سفر (1497ء) کے بعد وجود میں آئیں۔ اہم ترین کمپنیوں کو اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سےچارٹرملے جن میں انہیں مقدور بھر علاقہ حاصل کرنے اور وہاں حکومتی امور چلانے کی اجازت دی گئی۔ بشمول قوائین؛ کرنسی کا اجراء؛ معاہدے۔ جنگ اور انصاف۔ مشہور ترین کمپنیاں ڈنمارک: فرانس: بر طانیہ اور ڈچ کی تھیں۔ 1616ء اور 1634ء میں ایسٹ انڈیا تجارت میں حصہ حاصل کرنے کی دو ناکام کوششوں کے بعد 1729ء میں ڈنمارک کے بادشاہ فریترک چہارم نے کمپنی چارٹر کی۔ برطانیہ اور ڈنمارک کے درمیان جنگ میں ٹینئش بحری طاقت کی تبابی کے نتیجے میں ڈینش کمپنی کی طاقت ختم ہوگئی۔


 انڈیا میں اس کی املاک (تامل ناڈو میں ترانکوبار اور بنگال میں سیرامپور) 1845ء میں برطانیہ نے خرید لیں۔ برٹش ایست انڈیا کمپنی ہندوستان کی تاریخ میں کوئی دو سو سال تک ایک اہم قوت کے طور پر موجود رہی۔ اصل چارٹر ملکہ ایلزبتھ نے 31دسمبر 1600ء میں جاری کیا تھا۔ کمپنی کو ایسٹ انڈیز کی تجارت میں اجارہ دیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی پابندی لگائی گئی کہ وہ کسی عیسائی بادشاہ کے سابقہ تجارتی حقوق نہیں چھینے گی۔ استاک ہولڈرز میں سے منتخب کردہ ایک گورنر اور 24 ڈائریکٹر اس کا انتظام چلاتے تھے۔ کمپنی نے 1601ء اور 1610ء کے درمیان ہندوستان میں مدراس اور بمبئی کے مقام پر اپنی اوّلین فیکٹریاں یا تجارتی چوکیاں قائم کیں۔ 1650ء اور  5ء میں کمپنی نے مقابل کمپنیوں کو ضم کر لیا جنہیں کامن ویلتھ اور پروٹیکٹوریت کے تحت انکارپوریٹ کیا گیا۔ 1657ء میں اولیور کروم ویل نے اسے ہندوستانی تجارتی پر حفوق رکھنے والی واحد جوائنٹ استاک کمپنی کے طور پر دوبارہ منظم کیا۔ چارلس دوم کے عہد میں کمپنی کو تجارتی مراعات کے علاوہ حقوق حاکمیت بھی مل گئے۔ 1689ء میں کمپنی نے بنگال: مدراس اور بمبنی میں انتظامی صوبے (پریذیڈنسی) قائم کرنے کے ساتھ ہندوستان میں اپنی طویل حکومت شروع کی۔ لائسنس کے بغیر نئے تاجروں کی آمد متواتر کمپنی کیلئے پریشانی کا باعث بنتی رہی۔ 1698ء میں نئے نجی تاجروں نے مل‎
کر نیو کمپنی یا انگلش کمپنی بنالی۔ تاہم 1702ء میں پار لیمنت نے دونوں کمپنیوں کو ضم کر کے  بنائی


 اتھارہویں صدی کے دوران چارٹر کی کئی مرتبہ تجدید کی گئی۔ 1751ء میں کمپنی کے ایک افسر رابرت کلانیو کی فتوحات (1751ء میں آرکوٹ اور 1757ء میں پلاسی کے مقام پر فرانسیسوں کے خلاف) نے کمپنی کو ہندوستان کی غالب طاقت بنا دیا۔ 1761ء میں پونڈی چیری کے مقام پر فر انسیسوں کی شکست کے ساتھ ہر قسم کی یورپی مسابقت ختم ہوگئی۔ 1773ء میں حکومت ہرطانیہ نے ہندوستان میں گورنر جنرل شپ قائم کی اور یوں کمپنی کے انتظامی کنٹرول میں کافی کمی کر دی۔ تاہم بنگال میں اس کا گورنر وارن ہیسٹنگز ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل بنا۔ 1784ء میں انڈیا ایکٹ کے نام سے بنائے گئے برطانوی حکومت کے ایک محکمے نے کمپنی کو ہندوستانی امور پر سیاسی: فوجی اور مالیاتی کنٹرول دیا اور آئندہ نصف صدی کے دوران زیادہ تر برصغیر برطانوی کنٹرول میں آگیا۔ 1813ء میں ہندوستان کی تجارت پر کمپنی کا اجارہ ختم کیا گیا اور 1833ء میں چینی تجارت کی اجارہ داری بھی اس کے ہاتھ سے نکل گئی۔ کمپنی نے 1857ء کے غدر تک انتظامی وظائف جاری رکھے۔ 1858ء میں تاج نے ہندوستان کی حکومت کے اختیارات اپنے باتھ میں لے لئے اور کمپنی کی 24.000 آدمیوں کی فوج برطانوی فوج میں شامل ہوگئی۔ یکم جنوری 1874ء کو کمپنی کا باقاعدہ خاتمہ ہوا۔  فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی: یہ 1664ء میں بادشاہ لوئی چہاردہم کے وزیر خزانہ ژاں باپست کولبرٹ نے قائم کی۔ کمپنی نے بمبئی میں سورت کے مقام پر اپنا پہلا تجارتی الہ 1675ء میں بنایا۔


 اگلے برس پونڈی چیری میں کارومنڈل ساحل پر بھی ایک مرکزی اذہ قائم ہوا۔ کمپنی نے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اپنے آپریشنز کو چین اور ایران تک وسعت دی۔ 1719ء میں کمپنی نے امریکی اور افریقہ فرانسیسی کالونیوں کو 468 76ط23ع00(03٥) 9 کے نام سے متحد اور منظم کیا۔ افریقہ: لوکسیانا اور امریکہ میں مالی‎ 98 کے نام سے متحد اور منظم کیا۔ افریقہ+ لوکسیانا اور امریکہ میں مالی نقصان اُٹھانے کے باوجود کمپنی ہندوستان میں منافع کماتی رہی۔ گورنر فرانسوس ڈپیلکس نے ہندوستان پر کنٹرول کے لئے ناکام جدوجہد کی۔ 1769ء میں ایک شابی فرمان کے تحت کمپنی کے آپریشنر کو ختم کیا گیا اور اگلے برس اس نے اپنا 500 ملین 1۷7:68 کا سرمایہ تاج کو واپس کر دیا۔ 1785ء میں ایک نئی کمپنی کو تجارتی مراعات حاصل ہوئیں؛ لیکن انقلاب فرانس کے دوران 1794ء میں یہ بھی ختم کرنا پڑی۔

Comments

Popular posts from this blog

Umer Khayam

عمر خیام کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جن میں تھوڑا تضاد ملتا ہے اگر آپ گوگل  کرے تو کچھ اسطرح کی تحریر سامنے آتی ہے  عمر خیام ایک فارسی کے ریاضی دان ، ماہر فلکیات ، فلسفی ، اور شاعر تھے۔ وہ شمال مشرقی ایران کے شہر نشابور میں پیدا ہوا تھا ، اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس عرصے میں کارخانیڈ اور سلجوق حکمرانوں کے دربار کے قریب گزارا جس میں پہلی صلیبی جنگ کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اور کچھ معلومات اس طرح کی ملتی ہے  عمر خیام کا اصل نام غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم خیام تھا۔ ان کے نام کے ساتھ خیام کا لقب لگنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے والد ابراہیم پیشے کے لحاظ سے خیمہ دوز تھے لیکن عمر خیام نے تمام عمر میں ایک دن بھی خیمہ دوزی نہیں کی بلکہ محض کسرنفسی اور اپنے والد کی شہرت عام کی بنا پر انہوں نے خیام تخلص اختیار کیا۔ عمر خیام کس سن میں پیدا ہوۓ اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن تحقیقات سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ  عمرخیام چوتھی صدی ہجری کے عشرے اوّل (10ھ  بمطابق 1019ء) میں نیشا پور (ایران) میں پیدا ہوے لیکن بیشتر مغربی مورخین ع...

Google Task Mate

Google گوگل کی جانب سے ایک نئی ایپ ”'ٹاسک میٹ“ متعارف کرائی جارہی ہے جس سے لوگ عام کام جیسے دکانوں کی سامنے سے  تصاویر کھینچ کر یا مختصر ویڈیو کلپس کے ذریعے پیسے کماسکیں گے۔ اس وقت یہ ایپ صرف بھارت میں صارفین کے لیے لائیو ہے اور اس کا حصہ بننے کے لیے انوی ٹیشن کوڈ درکار ہوگاء جس کے بعد ہی ٹاسکس پر کام ہوسکے گا۔ اس سے قبل ایک ایپ گوگل اوپینین ریورڈرز بھی پیش کی گئی تھی جس میں گوگل کی مصنوعات یا ایسے مقامات کے بارے میں سوالات پوچھے جاتے جہاں وہ جاچکے ہوں جس کے عوض پلے اسٹور کریڈٹ فراہم کیا جاتا۔  مگر اس نئی ایپ میں کریڈٹ کی بجائے اصل رقم ادا کی جائے گی۔ ””ٹاسک میٹ“ میں ٹاسکس کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہےء ایک بیٹھ کر کرنے والے کام جیسے جملے ریکارڈ کرنا اور چلتے پھرتے کیے جانے والے کام جیسے تصاویر لینا۔ اس کے عوض صارفین کو مقامی کرنسی میں ادائیگی کی جائے گی۔ یہ تو واضح نہیں کہ گوگل ان ٹاسکس کو کن مقاصد کے لیے استعمال کرے گاء مگر گوگل کی جانب سے اس ڈیٹا کو سرچ؛ لہجے کے آہنگ اور امیج شناخت کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک بار ٹاسک مکمل کرنے پر صارف کو اسے ایک تھرڈ پارٹی...

Princess Of Hope

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے    ساحل لسبیلہ و مکران کے کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر اور اورماڑہ کے  درمیان واقع ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ بلوچستان صوبہ کا ایک قدرتی اور عجوبہ کہے جانے کا مستحق ہے۔ کنڈ ملیر سے شروع ہونے والے پہاڑی سلسلے؛ جسے بُذی لک کہا جاتا ہے کے درمیان میں ایک کٹا پھٹا پہاڑ ہے جسے صدیوں کے آندھی, طوفان اور بارشوں کے بہائو نے ایسی شکل دے دی تھی ۔  2002 میں ہولی وڈ کی اداکارہ انجلینا جولی نے دیکھ کر اسے پرنسیس آف ہوپ یعنی ”'امید کی شہزادی'ٴ اس کا نام رکھا اور اس عجوبہ نےپوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی۔ یہ جس خطے میں واقع ہے یہاں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ محمد بن قاسم کی فتح سے پہلے اس خطے کو ارما بیل کہا جاتا تھا۔ سکندراعظم کی فوج کا ایک حصہ 325 قبل مسیح میں ایران کو واپس جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔  اس کے عقب میں دریائے ہنگول کے کنارے ہندوؤں کا قدیم ترین مندر ہے جونانی ہنگلاج یا بنگلاج ماتا کے نام سے موسوم ہے۔ اس مندر میں قدیم دور میں بحری و بری راستے سے یہاں اپنی عبادت کے لئے رجوع ہوتے تھے اور آج بھی یہ...