انسانوں کی جگہ روبوٹس
ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی جانب سے حال بی میں شائع کی جانے والی تازہ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگلے
پانچ سال میں 8 کروڑ 50 لاکھ انسان مزدوروں کی جگہ روبوٹ مزدور لے لیں گے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی فورم کی جانب سے دنیا بھر کے 300 بڑے اداروں اور کمپنیوں میں کیے جانے والے سروے سے پتا چلا کہ بر 5 میں سے 4 ادارے اپنے کام کو ڈیجیٹلائز کرنے کے خواہاں ہیں۔
یعنی ہر پانچ میں سے 4 اداروں کی خواہش ہے کہ بیماریوں اور دیگر آفتوں کی وجہ سے انسان مزدروں پر اکتفا کرنے کے بجائے روبوٹ کی خدمات حاصل کریں۔ عالمی اکنامک فورم کے مطابق کورونا کی وبا سے قبل 2007 ء اور 2008 ء کے معاشی بحران کے بعد ہی کمپنیوں نے انسانوں کے بجائے روبوٹس اور مشینوں سے کام لینا شروع کردیا تھا۔ تابم کورونا کے بعد کام کی نوعیت تبدیل ہونے کے بعد اگلے 5 سال یعنی 5ء تک دنیا بھر میں 8 کروڑ 50 لاکھ انسانوں کی جگہ روبوٹ یا مشینیں
لے لیں گی۔
جن شعبوں میں انسانوں کی جگہ روبوٹ یا مشینیں لے لیں گی؛ ان میں ڈیٹا انٹری آپریٹرء ایڈمنسٹریٹو سیکریٹریزء اکاؤنٹس اینڈ آڈٹ: کسٹمر سروس ورکرزء آپریشنل منیجر اور اسٹاک ریکارڈر منیجر سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ مذکورہ شعبوں کے علاوہ بھی دیگر کئی شعبوں میں مصنوعی ذبانت کا استعمال کرکے انسانوں کی جگہ روبوٹس کو تعینات کیا جائے گا اور اس ضمن میں کاروباری کمپنیوں اور اداروں نے خود کو تیار بھی کرلیا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اگلے پانچ سال
میں 8 کروڑ 0 لاکھ انسانوں کی جگہ روبوٹ تعینات کیے جائیں گے
تاہم اسی عرصے میں انسانوں کی 9 کروڑ نوکریاں بھی نکلنے کی أُمید ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 ء تک ڈیٹا اینالسٹ اسٹریٹجی اسپیشلسٹ بزنس ڈیولپمنٹ پروفیشنل؛ انفارمیشن سیکیورٹی اینالسٹ اور سافٹ ویئر ڈیولپرز سمیت دیگر شعبوں میں خاص انسانوں کی 9 کروڑ آسامیاں بھی پیدا ہوں گی۔
کورونا کی وبا کے باعث اقوام متحدہ (یو این) اپنی رپورٹس میں بتا چکا ہے کہ دنیا بھر میں فوری طور پر کل وقتی 40 کروڑ ملازمتیں ختم ہونے کے امکانات ہیں جب کہ دنیا بھر میں غربت میں اضافہ ہوجائے گا۔




Comments
Post a Comment