Skip to main content

Does anyone know what real wealth is?/ کیا کسی کو پتہ ہے کہ اصل دولت کسے کہتے ہے ؟

 کیا کسی کو پتہ  ہے کہ اصل دولت کسے کہتے ہے ؟

                                               


لوگ سمجھتے ہیں کہ دولت پیسہ ،شہرت ،اچھا گھر ،نوکر چاکر ،کا ہونا ہے مگر اسکے برعکس اصل دولت آپکے دل کے اندر   رحم  کا ہونا ہےایسی دولت کا کیا فائدہ جسکے ہوتے ہوۓ بھی آپکے پڑوسی بھوکے رہیں اور آپ اپنی دولت کے ذریے دوسروں پر اثر انداز ہوں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اصل دولتمند وہ ہے جس کے ماں باپ زندہ ہیں اور وہ انکی قدر کرے اور اپنے


غریب دوستوں کو کمتری کا احساس نہ ہونے دے مہینے اپنی زندگی می ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جنکے پاس بہت دولت اور آسائشیں تھی مگر انکے پاس سکون نام کی کوئی چیز نہی تھی کوئی کسی بیماری میں مبتلا تھا تو کوئی تو کسی کے پاس سب ہوتے ہوۓ بھی اسکی فیملی اسکے پاس نہ تھی اور کچھ لوگ ایسے بھی ملے کے انکوں ہر وقت اپنی دولت ،ذات کی فکر رہتی جیسا کہ ہم سبکوں معلوم ہے کہ انسان کو ایک نہ ایک دن اس فانی دنیا سے جانا ہے اور سبکوچھ یہی رہ جائیگا تو کیا ہی اچھا ہے ک ہم اپنے آس پاس ک لوگوں کا خیال رکھیں لوگوں کا خیال کریں اور اپنے ڈپریشن کو ختم کرے شکریہ  

/////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////

Does anyone know what real wealth is?

                                   


People think that wealth is to have money, fame, good house, servant, but on the contrary, the real wealth is to have compassion in your heart. Influence on how well someone has said that the real rich man is the one whose parents are alive and he values ​​them and his

Don't let poor friends feel inferior. In this month of my life, I have seen many people who had a lot of wealth and comforts but they did not have anything called peace. Even though he did not have a family, and some people met him, he was always worried about his wealth, caste, as we all know that one day man has to leave this mortal world and everything will remain the same. How good it is that we take care of the people around us, take care of the people and end our depression. Thank you.

Comments

Popular posts from this blog

Princess Of Hope

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے    ساحل لسبیلہ و مکران کے کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر اور اورماڑہ کے  درمیان واقع ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ بلوچستان صوبہ کا ایک قدرتی اور عجوبہ کہے جانے کا مستحق ہے۔ کنڈ ملیر سے شروع ہونے والے پہاڑی سلسلے؛ جسے بُذی لک کہا جاتا ہے کے درمیان میں ایک کٹا پھٹا پہاڑ ہے جسے صدیوں کے آندھی, طوفان اور بارشوں کے بہائو نے ایسی شکل دے دی تھی ۔  2002 میں ہولی وڈ کی اداکارہ انجلینا جولی نے دیکھ کر اسے پرنسیس آف ہوپ یعنی ”'امید کی شہزادی'ٴ اس کا نام رکھا اور اس عجوبہ نےپوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی۔ یہ جس خطے میں واقع ہے یہاں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ محمد بن قاسم کی فتح سے پہلے اس خطے کو ارما بیل کہا جاتا تھا۔ سکندراعظم کی فوج کا ایک حصہ 325 قبل مسیح میں ایران کو واپس جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔  اس کے عقب میں دریائے ہنگول کے کنارے ہندوؤں کا قدیم ترین مندر ہے جونانی ہنگلاج یا بنگلاج ماتا کے نام سے موسوم ہے۔ اس مندر میں قدیم دور میں بحری و بری راستے سے یہاں اپنی عبادت کے لئے رجوع ہوتے تھے اور آج بھی یہ...

Umer Khayam

عمر خیام کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جن میں تھوڑا تضاد ملتا ہے اگر آپ گوگل  کرے تو کچھ اسطرح کی تحریر سامنے آتی ہے  عمر خیام ایک فارسی کے ریاضی دان ، ماہر فلکیات ، فلسفی ، اور شاعر تھے۔ وہ شمال مشرقی ایران کے شہر نشابور میں پیدا ہوا تھا ، اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس عرصے میں کارخانیڈ اور سلجوق حکمرانوں کے دربار کے قریب گزارا جس میں پہلی صلیبی جنگ کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اور کچھ معلومات اس طرح کی ملتی ہے  عمر خیام کا اصل نام غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم خیام تھا۔ ان کے نام کے ساتھ خیام کا لقب لگنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے والد ابراہیم پیشے کے لحاظ سے خیمہ دوز تھے لیکن عمر خیام نے تمام عمر میں ایک دن بھی خیمہ دوزی نہیں کی بلکہ محض کسرنفسی اور اپنے والد کی شہرت عام کی بنا پر انہوں نے خیام تخلص اختیار کیا۔ عمر خیام کس سن میں پیدا ہوۓ اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن تحقیقات سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ  عمرخیام چوتھی صدی ہجری کے عشرے اوّل (10ھ  بمطابق 1019ء) میں نیشا پور (ایران) میں پیدا ہوے لیکن بیشتر مغربی مورخین ع...

Tipu Sultan

عالم اسلام کے ایک بہت بڑے عالم سیّد جمال الدین افغانی نے انیسویں صدی کے آخر میں ''پین اسلام ازم (عالم اسلام کا اتحاد) کا نعرہ لگایا۔ ترکی کے سلطان عبدالحمید خان ثانی نے اس کی سرپرستی کی۔ بعد میں پہلی عالمی جنگ کے دوران بھی یہی نعرہ ترکوں کا جنگی نعرہ بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کو متحد کرنے کا خیال جنوبی ہند کی ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کے فرمانروا کو اس نعرے کے مقبول ہونے سے سو برس پہلے آچکا تھا کہ عالم اسلام کو متحد کرکے طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جائے۔ اس نے اس سلسلے میں ترکی کے سلطان سلیم ثٹالٹ سے خط و کتابت کی اور اس سلسلے میں سفارت بھی بھیجی کہ بصرہ کی بندرگاہ سے ترکی اپنا بحری بیڑہ خلیج فارس کے راستے سے جنوبی ہند بھیجے۔ اس نے افغانستان کے فرمانروا زمان شاہ کو لکھا کہ وہ اس کی مدد کو آئے۔ زمان شاہ اس کی مدد کیلئے افغانستان سے چل کر پنجاب پہنچا تھا کہ کسی وجہ سے اسے واپس جانا پڑاء اس نے ایران کے فرمانروا سے بھی خط و کتابت جاری رکھی کہ دونوں ممالک میں خیر سگالی کے تعلقات قائم ہوں۔ پھر فرانس کے حکمران نپولین بوناپارٹ کے پاس سفارت بھیجی کہ وہ اس کی مدد ...