Skip to main content

Have you ever translated My Status into Urdu?



 کیا کبھی  My Status کا اردو میں ترجمہ کرکے دیکھا ہے؟

یقیناََ نہیں؟؟؟

کیونکہ اگر ترجمہ کیا ہوتا اور آپ اس کے مفہوم سے آشنا ہوتے تو آپ کبھی بھی Status پر گانے اور ناچتی لڑکیوں کی TikTok نہ لگاتے!! 

دراصل Status انگریزی کا لفظ ہے اور اردو میں اس کو درجہ یا عام الفاظ میں حیثیت کہتے ہیں۔اس طرح My Status کا مطلب ہوا میری حیثیت!! 

اور جب آپ اسٹیٹس پر گانے اور ناچتی لڑکیوں کی ویڈیو لگاتے ہیں تو اصل میں آپ اپنی اوقات اور حیثیت کو

متعارف کروا رہے ہوتے ہیں!! 

سب سے بڑی بات اس میں یہ ہیکہ آپکا لگایا گیا گانا یا فحش فوٹو جتنے لوگ دیکھیں گیں ان دیکھنے والوں کے بقدر آپکے نامہ اعمال میں گناہ درج کردیے جاتے ہیں مثال کے طور پر آپکا! 

سٹیٹس 20 بندوں نے دیکھا تو 20 گناہ ان 20 بندوں کو جہاں مل رہے ہیں وہیں پر اپ اکیلے کو انکے 20 اکھٹے گناہ پہنچ رہے ہیں چاہے آپ کوئی ایسی جاری برائی چھوڑ کر قبر میں بھی چلیں جائیں وہاں پر بھی آپکے گناہوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا اس لیے اس گناہ جاری سے بچنے کے بھرپور کوشش کیجیے !

اگر کسی کو میری بات بری لگی ھو دل آزاری ھوئی ھو تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں! 🙏



اللہ کریم ھمیں نیکی کرنے اور نیکی کو پھیلانے کی توفیق بخشے آمین ثمہ آمین۔“
#MyStatus

محمّد یاسر زاہد حسین 

/////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////////

Have you ever translated My Status into Urdu? Surely not??? Because if the translation had been done and you were familiar with its meaning, you would never have put TikTok of girls singing and dancing on Status !! In fact, Status is an English word and in Urdu it is called status or status in common words. Thus My Status means my status !! And when you put videos of girls singing and dancing on the status quo, you actually save your time and status. Introducing !! The biggest thing is that the number of people who will see your song or pornographic photo is recorded in your book of deeds according to the number of people who see it. For example, your!




Status There are 20 slaves in which there are 20 slaves where you have 20 accumulated coke in which 20 accumulated sins reach, you have to leave any kind of evil and go to the grave which is constantly increasing in your homes. ۔ Try your best!








May God help us to do good and spread goodness. Amen. Amen. “

by Muhammad Yasir Zahid Hussain

Comments

Popular posts from this blog

Princess Of Hope

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے    ساحل لسبیلہ و مکران کے کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر اور اورماڑہ کے  درمیان واقع ہے۔ یہ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ بلوچستان صوبہ کا ایک قدرتی اور عجوبہ کہے جانے کا مستحق ہے۔ کنڈ ملیر سے شروع ہونے والے پہاڑی سلسلے؛ جسے بُذی لک کہا جاتا ہے کے درمیان میں ایک کٹا پھٹا پہاڑ ہے جسے صدیوں کے آندھی, طوفان اور بارشوں کے بہائو نے ایسی شکل دے دی تھی ۔  2002 میں ہولی وڈ کی اداکارہ انجلینا جولی نے دیکھ کر اسے پرنسیس آف ہوپ یعنی ”'امید کی شہزادی'ٴ اس کا نام رکھا اور اس عجوبہ نےپوری دنیا میں شہرت حاصل کرلی۔ یہ جس خطے میں واقع ہے یہاں کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ محمد بن قاسم کی فتح سے پہلے اس خطے کو ارما بیل کہا جاتا تھا۔ سکندراعظم کی فوج کا ایک حصہ 325 قبل مسیح میں ایران کو واپس جاتے ہوئے یہاں سے گزرا تھا۔  اس کے عقب میں دریائے ہنگول کے کنارے ہندوؤں کا قدیم ترین مندر ہے جونانی ہنگلاج یا بنگلاج ماتا کے نام سے موسوم ہے۔ اس مندر میں قدیم دور میں بحری و بری راستے سے یہاں اپنی عبادت کے لئے رجوع ہوتے تھے اور آج بھی یہ...

Umer Khayam

عمر خیام کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جن میں تھوڑا تضاد ملتا ہے اگر آپ گوگل  کرے تو کچھ اسطرح کی تحریر سامنے آتی ہے  عمر خیام ایک فارسی کے ریاضی دان ، ماہر فلکیات ، فلسفی ، اور شاعر تھے۔ وہ شمال مشرقی ایران کے شہر نشابور میں پیدا ہوا تھا ، اور اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اس عرصے میں کارخانیڈ اور سلجوق حکمرانوں کے دربار کے قریب گزارا جس میں پہلی صلیبی جنگ کا مشاہدہ ہوا تھا۔ اور کچھ معلومات اس طرح کی ملتی ہے  عمر خیام کا اصل نام غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم خیام تھا۔ ان کے نام کے ساتھ خیام کا لقب لگنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے والد ابراہیم پیشے کے لحاظ سے خیمہ دوز تھے لیکن عمر خیام نے تمام عمر میں ایک دن بھی خیمہ دوزی نہیں کی بلکہ محض کسرنفسی اور اپنے والد کی شہرت عام کی بنا پر انہوں نے خیام تخلص اختیار کیا۔ عمر خیام کس سن میں پیدا ہوۓ اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن تحقیقات سے اس قیاس کو تقویت ملتی ہے کہ  عمرخیام چوتھی صدی ہجری کے عشرے اوّل (10ھ  بمطابق 1019ء) میں نیشا پور (ایران) میں پیدا ہوے لیکن بیشتر مغربی مورخین ع...

Tipu Sultan

عالم اسلام کے ایک بہت بڑے عالم سیّد جمال الدین افغانی نے انیسویں صدی کے آخر میں ''پین اسلام ازم (عالم اسلام کا اتحاد) کا نعرہ لگایا۔ ترکی کے سلطان عبدالحمید خان ثانی نے اس کی سرپرستی کی۔ بعد میں پہلی عالمی جنگ کے دوران بھی یہی نعرہ ترکوں کا جنگی نعرہ بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم اسلام کو متحد کرنے کا خیال جنوبی ہند کی ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کے فرمانروا کو اس نعرے کے مقبول ہونے سے سو برس پہلے آچکا تھا کہ عالم اسلام کو متحد کرکے طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جائے۔ اس نے اس سلسلے میں ترکی کے سلطان سلیم ثٹالٹ سے خط و کتابت کی اور اس سلسلے میں سفارت بھی بھیجی کہ بصرہ کی بندرگاہ سے ترکی اپنا بحری بیڑہ خلیج فارس کے راستے سے جنوبی ہند بھیجے۔ اس نے افغانستان کے فرمانروا زمان شاہ کو لکھا کہ وہ اس کی مدد کو آئے۔ زمان شاہ اس کی مدد کیلئے افغانستان سے چل کر پنجاب پہنچا تھا کہ کسی وجہ سے اسے واپس جانا پڑاء اس نے ایران کے فرمانروا سے بھی خط و کتابت جاری رکھی کہ دونوں ممالک میں خیر سگالی کے تعلقات قائم ہوں۔ پھر فرانس کے حکمران نپولین بوناپارٹ کے پاس سفارت بھیجی کہ وہ اس کی مدد ...